Tabeer By Hazrat Yousaf

Allah Tala Ke Ehkamat Ki Roshni Mein Khwab Ki Haqeqat

حقیقت خواب احکامات الٰہی کی روشنی میں

علم تعبیر کی فضیلت ہے کہ خود خداوند تعالیٰ نے اسے خاص انعام سے تعبیر فرمایا ہےاور جس علم کو باری تعالیٰ نے اپنا فضل وکرم ظاہر کیا ہے وہ علم کتنا افضل ومبارک ہوگا-ارشاد الہی کی ایک مثال یہ ہے کہ سورۃ یوسف میں ارشاد فرمایا ہے کہ

 

“اس طرح ہم نے یوسف علیہ السلام کو اس ملک (مصر) میں سلطنت عطا فرمائی اور اس کو تعبیر سکھایا”

 

جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم) نے واقعہ معراج شریف کے بعد ایک خواب دیکھا اور اس خواب کا اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اس طرح ذکر کیا ہے

 

“کہ اللہ تعالی نے اپنے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کو سچ کر دکھایا”

 

اس ارشاد باری تعالیٰ سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خواب ایک نعمت ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالی کے احکامات بندوں پر ظاہر ہوتے ہیںیہ علم ایسا افضل و اشرف ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے نیک بندے نہ صرف اس پر یقین اور ایمان رکھتے ہیں بلکہ وہ معبود برحق کے حکم پر سر تسلیم خم کرتے ہیں خواہ وہ احکام عالم بیداری میں ہو یا عالم خواب میں جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں بشارت ہوئی کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں اور ان باپ بیٹوں نے اس حکم الہی کی عملا تعمیل کر ڈالیاس کے متعلق قرآن مجید میں اللہ تعالی نے اس طرح فرمایا ہے کہ

 

“اے ابراہیم بے شک تو نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا ہے اور ہم اپنے نیک بندوں کو اسی طرح اجر دیا کرتے ہیں”

 

ان احکامات الہی اور قرآن پاک کی ان مثالوں سے خواب کی فضیلت اور صداقت کا زبردست ثبوت ملتا ہے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواب صرف وہم و خیالات پر ہی مبنی نہیں ہوتے بلکہ اسرار و احکامات الہی کا ذریعہ اظہار بھی ہیںالبتہ یہ بات ضرور ہے کہ خدا کے نیک بندے جس طرح عالم بیداری میں احکامات الٰہی پر کاربند رہتے ہیں اسی طرح عالم خواب میں بھی جب ان پر احکام و اسرار الٰہی کا انکشاف ہوتا ہےتو وہ پوری مستعدی سے ان پر کاربند ہوتے ہیں جیسے حضرت ابراھیم علیہ السلام عالم خواب میں ہی احکام الٰہی سے مطلع ہو کر اپنے عزیز فرزند کی قربانی کے لیے بخوشی تیار ہوگئے تھے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *